وفاق کا اقلیتی کمیونل پراپرٹیز کو خریدوفروخت کرنے کے حوالہ سے این او سی جاری کرنے کیلئے بل پاس کرنے سے پاکستان کی مسیحی برادری مذہبی و سیاسی رہنماؤں میں انتہائی تشویش پائی جا رہی ہے۔۔ این او سی کے ترمیم شدہ بِل کو لیکر سیاسی و مذہبی رہنما بشمول مسیحی برادری کنفیوژن کا شکار دکھائی دے رہی ہے آیا کہ این او سی کے تحت چرچ پراپرٹیز کی خریدوفروخت درست ہے یا نہیں۔ چند مسیحی مذہبی رہنما اس بِل کو لیکر مسیحی سیاسی قیادت سے زرا نالاں بھی نظر آ رہے ہیں کیونکہ اس این او سی کے تحت انکو سیاسی رہنماؤں کی پوشی کرنا پڑیگی۔ یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ اس بِل کے تحت گزشتہ حکومتوں جس میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی پارٹی نے 5 این او سی جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے ایک این او سی جاری کیا ہے۔ این او سی جاری کرنے یا کروانے کیلئے شرائط اتنی سخت نا ہے کہ کوئی بھی بشپ یا پادری ان شرائط کو پورا کر کے چرچ پراپرٹی کی خریدوفروخت کر سکے۔ بہرحال بس اتنا کہنا چاہونگا کہ پہلے بشپ، پادری یا انکے فرنٹ مین اکیلے ہی پراپرٹیز کو دھڑا دھڑ بیچ رہے تھے۔ اب این او سی جاری کروانے کیلئے سیاستدان بطورِ پراپرٹی ڈیلر کا کردار ادا کرتے ہوئے...