Posts

Minorities Properties in Pakistan

Image
  وفاق کا اقلیتی کمیونل پراپرٹیز کو خریدوفروخت کرنے کے حوالہ سے این او سی جاری کرنے کیلئے بل پاس کرنے سے پاکستان کی مسیحی برادری مذہبی و سیاسی رہنماؤں میں انتہائی تشویش پائی جا رہی ہے۔۔ این او سی کے ترمیم شدہ بِل کو لیکر سیاسی و مذہبی رہنما بشمول مسیحی برادری کنفیوژن کا شکار دکھائی دے رہی ہے آیا کہ این او سی کے تحت چرچ پراپرٹیز کی خریدوفروخت درست ہے یا نہیں۔ چند مسیحی مذہبی رہنما اس بِل کو لیکر مسیحی سیاسی قیادت سے زرا نالاں بھی نظر آ رہے ہیں کیونکہ اس این او سی کے تحت انکو سیاسی رہنماؤں کی پوشی کرنا پڑیگی۔ یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ اس بِل کے تحت گزشتہ حکومتوں جس میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی پارٹی نے 5 این او سی جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے ایک این او سی جاری کیا ہے۔ این او سی جاری کرنے یا کروانے کیلئے شرائط اتنی سخت نا ہے کہ کوئی بھی بشپ یا پادری ان شرائط کو پورا کر کے چرچ پراپرٹی کی خریدوفروخت کر سکے۔ بہرحال بس اتنا کہنا چاہونگا کہ پہلے بشپ، پادری یا انکے فرنٹ مین اکیلے ہی پراپرٹیز کو دھڑا دھڑ بیچ رہے تھے۔ اب این او سی جاری کروانے کیلئے سیاستدان بطورِ پراپرٹی ڈیلر کا کردار ادا کرتے ہوئے...

Center for social Justice

  سینٹر فار سوشل جسٹس کیطرف سے "یُوتھ کریٹویٹی ورکشاپ" کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے سینئر سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ سوشل میڈیا ہیڈ پی ایم آر ڈیرک شوکت کوآرڈینیٹر نیویارک نے بطورِ پی ایم آر سی نمائندہ شرکت کی۔ سوشل میڈیا سیل | پی ایم آر سی

Pakistan Minority Rights Commission Official Reg

Image
  روحیل ظفر شاہی سیکرٹری جنرل پی ایم آر سی کا نومنتخب ماڈریٹر چرچ آف پاکستان عزت ماب ریورنڈ آزاد مارشل سے ٹیلفونک رابطہ: روحیل ظفر شاہی سیکرٹری جنرل پی ایم آر سی کا نومنتخب ماڈریٹر چرچ آف پاکستان عزت ماب ریورنڈ آزاد مارشل سے ٹیلفونک رابطہ ہوا جس میں روحیل شاہی سیکرٹری جنرل پی ایم آر سی نے چرچ آف پاکستان کا ماڈریٹر منتخب ہونے پر چیئرمین پی ایم آر سی خان جنید ثاقب اور پی ایم آر سی کی تمام ٹیموں کی طرف سے مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس اہم ٹیلیفونک رابطے میں ایڈورڈز کالج پشاور کے حالیہ فیصلے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور مسیحی قوم کے شدید غم و غصے اور تحفظات سے آگاہ کیا، انہیں دیگر چرچ آف پاکستان کے زیرِ سایہ چرچ پراپرٹیز کی سرعام خریدوفروخت اور ناجائز تعمیرات سے بھی آگاہ کیا۔ ایڈورڈز کالج کے حالیہ فیصلے کے حوالہ سے انکا کہنا تھا کہ معزز بشپ ہمفری سرفراز پیٹر اور انکی وکلا ٹیم سپریم کورٹ آف پاکستان میں نظرثانی اپیل دائر کریگی اور حکومت سے اعلی سطح کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کرینگے۔ اگر اسکے باوجود کوئی خاطرخواہ جواب نہ ملا تو ہر آئینی و قانونی کارروائی کو بروئے کار لایا ...